جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے بعد امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا عالمی سطح پر محتاط خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تنازع 28 فروری کو ایران میں اعلیٰ حکام کی ٹارگیٹڈ ہلاکتوں سے شروع ہوا تھا، جو وزیر اعظم مودی کے اسرائیل دورے کے فوراً بعد پیش آیا۔ ان کے مطابق اس دورے نے ہندوستان کی عالمی شبیہ کو بہتر بنانے کے بجائے نقصان پہنچایا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم مودی نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور مغربی کنارہ میں اس کی پالیسیوں پر خاموشی اختیار کی، جو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے رویے کے خلاف ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کی خبریں مودی حکومت کی “ذاتی نوعیت کی سفارت کاری” کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں۔
