
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے شدت اختیار کرنے کے درمیان امریکہ نے دنیا بھر میں تعینات اپنے اہم ہتھیاروں میں سے ایک کو مغربی ایشیا کی جانب منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی اسلحہ ذخیرے میں موجود ایک جدید کروز میزائل JASSM-ER (جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل – ایکسٹینڈڈ رینج) کی بڑی تعداد ایران کو ہدف بنانے کے لیے مختص کی گئی ہے۔ مارچ کے آخر میں ان میزائلوں کو مغربی ایشیا میں سینٹرل کمانڈ اور برطانیہ کے فیئر فورڈ بیس منتقل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔
یہ جدید کروز میزائل تقریباً 600 میل تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی فی یونٹ قیمت تقریباً 1.5 ملین ڈالر ہے۔ اسے لاک ہیڈ مارٹن تیار کرتی ہے۔ اس میزائل کی خاص بات یہ ہے کہ اسے دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ امریکی طیاروں کو دشمن کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی، جبکہ جدید فضائی دفاعی نظام بھی اسے آسانی سے پکڑ نہیں سکتے۔ اسے بی-1 بی، بی-52 جیسے اسٹریٹجک بمبار طیارے اور بعض فائٹر جیٹس سے داغا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے سے قبل امریکہ کے پاس تقریباً 2,300 JASSM-ER میزائل موجود تھے، تاہم جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال کے بعد ان کی تعداد کم ہو کر تقریباً 425 رہ گئی ہے۔ ابتدائی ہفتوں میں ہی امریکہ نے قریب 1,000 میزائل استعمال کر لیے، جس کے باعث ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
دوسری جانب ان میزائلوں کی تیاری کی رفتار محدود ہونے کے باعث فوری طور پر کمی پوری کرنا ممکن نہیں۔ اندازوں کے مطابق لاک ہیڈ مارٹن رواں سال تقریباً 400 میزائل تیار کرے گی، جسے بڑھا کر 860 تک لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں ہزار میزائلوں کی سالانہ پیداوار بھی ممکن دکھائی نہیں دیتی، جس سے امریکی دفاعی حکمت عملی پر دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
