، متحدہ امت – ایک نیا فکری موڑ

 

بدلتی سوچ، متحدہ امت – ایک نیا فکری موڑ

سید جعفر حسین صدائے حسینی

دہلی میں واقع ایرانی کلچرل ہاؤس میں دیوبند سے وابستہ ممتاز عالمِ دین مولانا سجاد نعمانی کی آمد اور نمائندۂ ولیِ فقیہ حجت الاسلام ڈاکٹر حکیم الٰہی سے ملاقات ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، جو محض تعزیتی ملاقات نہیں بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک اہم فکری اشارہ بھی ہے۔ یہ ملاقات آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت کے پس منظر میں ہوئی، مگر اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ وسیع اور دیرپا ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصے میں مولانا سجاد نعمانی کے بعض بیانات، خصوصاً اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے موقع پر، مختلف حلقوں میں بحث و اختلاف کا باعث بنے۔ ان بیانات نے ایک طبقے میں ایران کے حوالے سے شکوک و شبہات کو مزید تقویت دی۔ خاص طور پر مدارس کے پڑھے لکھے حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر مفاہمت موجود ہے۔

مگر حالیہ عالمی حالات، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کھلی جارحیت، نے ان تصورات کو بڑی حد تک بدل دیا۔ مولانا سجاد نعمانی کا یہ مؤقف کہ “یہ حملہ کسی ایک مسلک پر نہیں بلکہ پورے اسلام پر ہے” ایک جامع اور دور رس پیغام کے طور پر سامنے آیا، جس نے فرقہ وارانہ سوچ سے اوپر اٹھ کر امت کی وحدت کی طرف توجہ مبذول کرائی۔

اسی تناظر میں معروف عالم دین مولانا سلمان ندوی کی جدوجہد بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے ایران کے حوالے سے حقائق پیش کرتے آئے ہیں اور گمراہ کن بیانیوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں اختلاف رائے کو اکثر تنقید کا سامنا ہوتا ہے، ان کی یہ جرات مندانہ روش قابلِ تحسین ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں مولانا سلمان ندوی کے بعض خیالات، خصوصاً شیعہ مکتب فکر کے حوالے سے، تنقید کا باعث بنے۔ تاہم وقت کے ساتھ ان کی سوچ میں جو تبدیلی آئی، وہ علمی دیانت اور حق پسندی کی واضح مثال ہے۔ خود ان کے الفاظ میں ان کے سابقہ خیالات “منسوخ” ہو چکے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ایک سچا عالم ہمیشہ سچائی کی تلاش میں رہتا ہے، نہ کہ اپنی پرانی رائے پر اصرار کرتا ہے۔

آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت نے ایک طرف امت کو غم میں مبتلا کیا، تو دوسری جانب بہت سے ذہنوں کو جھنجھوڑ بھی دیا۔ آج وہی حلقے جو پہلے شکوک کا شکار تھے، اب ایران کے کردار کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ عالمی استکبار کے خلاف ایران کا مؤقف اب ایک ملک کی پالیسی نہیں بلکہ ایک مزاحمتی نظریہ کے طور پر سمجھا جا رہا ہے۔

یہ تمام پیش رفت اس بات کی غماز ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں ایک مثبت فکری تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ اختلافات کے باوجود اگر نیت خالص ہو اور مقصد حق کی تلاش ہو، تو راستے واضح ہو جاتے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء، دانشور اور عوام سب مل کر ایک ایسے بیانیے کو فروغ دیں جو امت کی وحدت، بصیرت اور مشترکہ جدوجہد کو مضبوط کرے۔

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد کی راہ اپنائی جائے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو درپیش چیلنجز کا مؤثر جواب بن سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *