
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عسکری امور کے ماہر الیجا مگنیر نے عربی چینل الجزیرہ سے گفتگو میں تصدیق کی کہ امریکی حکام ایسے نقصان کے لیے تیار نہیں تھے جو انہیں خطے میں اٹھانا پڑا ہے۔
ان کے مطابق، امریکی حکام سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایران اور اس کے اتحادی اس پیمانے پر ردعمل دیں گے۔ ان کی توقعات بہت کمزور تھیں۔
مگنیر نے مزید کہا کہ امریکہ نے جنگ کے لمبے عرصے کے لیے خود کو تیار نہیں کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ لمحہ امریکہ کے لیے بہت سخت ہے، کیونکہ انہوں نے سوچا نہیں تھا کہ یہ جنگ اتنی طویل ہو جائے گی اور اس میں ایرانی ردعمل اس حد تک بڑھ جائے گا۔
تجزیہ کار نے بتایا کہ امریکی فوجی اڈوں کو مشرق وسطیٰ میں بھاری نقصان پہنچا ہے، جب کہ ایران کا آبنائے ہرمز میں ردعمل امریکی منصوبہ بندی سے بالکل باہر تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان سے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملے نے صہیونی حکومت کے دفاعی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
الیجا مگنیر نے اپنے تجزیے کے اختتام پر کہا کہ جو بھی فریق سب سے پہلے کمزوری دکھائے گا، اسے اس جنگ میں شکست خوردہ سمجھا جائے گا۔ یہ وہ صورتحال نہیں جس کا صدر ڈونالڈ ٹرمپ خواہاں تھا، لیکن وہ اب اندرونی سیاسی دباؤ سے بھی گزر رہا ہے۔
