آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای رہبر معظم انقلاب اسلامی منتخب ہوگئے

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس خبرگان نے نئے رہبر انقلاب کا انتخاب کیا، مجلس خبرگان نے بھاری اکثریت سے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنا رہبر منتخب کرلیا ہے۔

آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب ہوئے ہیں۔

مجلس خبرگان میں شہید رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید خامنہ ای اور دیگر شہدا سمیت مناب اسکول کے شہید طلبا،مسلح افواج کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

مجلس خبرگان عہدیداران کا کہنا ہے کہ ملک کو قیادت کے خلا سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے، مجلس نے عوام سے نئے رہبر اعلیٰ کی بیعت اور وحدت برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

شب ضربت امیرالمومنین علیہ السلام کے حساس اور تاریخی موقع پر مجلسِ خبرگانِ رہبری نے اسلامی انقلاب کے نئے رہبر کا اعلان کر دیا

بسم الله الرحمٰن الرحیم

اے ملتِ شریف اور آزادۂ ایرانِ اسلامی! آپ پر خداوند تعالیٰ کی سلامتی اور رحمت نازل ہو۔

مجلسِ خبرگانِ رہبری، عظیم الشان قائد آیت الله العظمٰی امام سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کے ساتھ تعزیت پیش کرتے ہوئے، نیز دیگر معزز شہداء—خصوصاً مسلح افواج کے عالی مقام اور جان نثار کمانڈروں اور ضلع میناب کے مدرسۂ شجرۂ طیّبہ کی طالبات کی شہادت پر ملتِ ایران سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ مجلس امریکہ کی مجرمانہ جارحیت اور خبیث صیہونی حکومت کی وحشیانہ یلغار کی شدید مذمت بھی کرتی ہے۔

یہ مجلس عوام کو مطلع کرتی ہے کہ جیسے ہی انقلابِ اسلامی کے دانا و فرزانہ رہبر کی شہادت اور ان کے عروجِ ملکوتی کی خبر عام ہوئی، اسی لمحے—انتہائی جنگی حالات، دشمنوں کی جانب سے اس عوامی ادارے کو براہِ راست دھمکیوں اور مجلسِ خبرگان کے سیکریٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے باوجود، جس کے نتیجے میں اس ادارے کے چند کارکنان اور حفاظتی عملے کے افراد شہید ہو گئے—مجلس نے نظامِ اسلامی کے نئے رہبر کے انتخاب اور اعلان کے عمل میں ذرّہ بھر تاخیر نہ کی۔

آئینِ اساسی اور مجلس کے داخلی ضوابط میں درج ذمہ داریوں کے مطابق فوراً ضروری انتظامات اور تدابیر اختیار کی گئیں تاکہ ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر کے نئے رہبر کا تعین کیا جا سکے۔ اسی مقصد کے لیے ملک کے مختلف علاقوں میں موجود معزز اراکینِ مجلس کو جمع کرنے کی منصوبہ بندی اور ضروری ہم آہنگی عمل میں لائی گئی، تاکہ آئینِ اساسی کے اصل 111 میں عارضی قیادت کے لیے پیش بینی کے باوجود، ملک کسی بھی لمحے قیادت کے خلا کا شکار نہ ہو۔

مجلسِ خبرگانِ رہبری عصرِ غیبتِ حضرت ولیِ عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) میں ولایتِ فقیہ کے بلند مقام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام میں قیادت کی غیر معمولی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے، انقلاب کے دونوں پیشواؤں کی عزت، استقلال اور اقتدار پر مبنی ۴۷ سالہ حکیمانہ قیادت کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان الٰہی اور عوامی رہنماؤں کی یاد کو گرامی رکھتے ہوئے مجلس اعلان کرتی ہے کہ تفصیلی اور ہمہ جہت غور و خوض کے بعد، اور آئینِ کے اصل 108سے استفادہ کرتے ہوئے، اپنی شرعی ذمہ داری اور خداوند متعال کے حضور جواب دہی کے احساس کے تحت آج کے غیر معمولی اجلاس میں آیت سید مجتبی حسینی خامنہ ای کو معزز اراکینِ مجلسِ خبرگان کے قاطع اکثریتی ووٹ سے اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب اور متعارف کرایا جاتا ہے۔

آخر میں مجلس، آئینِ کے اصل 111 کے تحت قائم عبوری شورا کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، ایران کی معزز ملت—خصوصاً حوزہ اور جامعات کے اہلِ علم و دانش—کو دعوت دیتی ہے کہ وہ نئے رہبر کے ساتھ بیعت کریں اور محورِ ولایت کے گرد قومی وحدت اور یکجہتی کو برقرار رکھیں۔ نیز بارگاہِ ربوبی میں دعا گو ہے کہ اس ملک اور اس کی عظیم ملت پر خداوندِ متعال کی رحمتیں اور عنایات ہمیشہ جاری و ساری رہیں۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *