خیال رہے کہ عدالت کی سنگل جج بنچ نے ابتدائی مشاہدے میں کہا کہ سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کی جانب سے قانونی تقاضوں پر مناسب طور پر عمل درآمد نہ ہونے کا بادی النظر میں تاثر ملتا ہے، جس کے بعد فلم کی نمائش پر 15 دن کے لیے روک لگا دی گئی۔ بعد ازاں فلم کے پروڈیوسر نے اس فیصلے کو ڈویژن بنچ میں چیلنج کر دیا۔
اپنے تین روزہ دورۂ کیرالہ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا، ’’سب سے پہلے میں یہ سمجھتی ہوں کہ لوگوں کو اظہارِ رائے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اسی کے ساتھ ایسے ماحول میں جو تیزی سے سخت بیانات اور نفرت سے بھر رہا ہو، بہتر ہے کہ تخلیقی انداز میں ایسی چیزیں بنائی جائیں جو خوشی، امن، محبت اور عوام کی فلاح کو آگے بڑھائیں۔‘‘
