انہوں نے عدالت سے عبوری ہدایت جاری کرنے کی اپیل کی ہے کہ ایس آئی آر کے دوران کسی بھی ووٹر کا نام، خاص طور پر ان افراد کا جو مبینہ طور پر ’منطقی تضاد‘ کے زمرے میں رکھے گئے ہیں، فہرست سے نہ ہٹایا جائے۔ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کو مزید سماعت کے لیے آج کے دن مقرر کیا تھا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ مقامی بولیوں اور زبانوں کے فرق کی وجہ سے ناموں کے ہجے میں اختلاف پورے ملک میں عام بات ہے اور اسے حقیقی ووٹروں کو فہرست سے باہر کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
