پاکستان میں استعمار کو یہ کھلی چھوٹ حاصل ہے کہ وہ جب چاہے ملک کے امن و امان کو تہہ و بالا کر دے۔

 

اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے ہولناک بم دھماکے کی ہم شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس سفاکانہ دہشت گردی کے نتیجے میں جو بے گناہ نمازی شہید ہوئے، ہم بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے، انہیں شہدائے کربلا کے قافلے میں شامل فرمائے، اور ان کے پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ نیز ہم خداوندِ عالم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان ظالموں، دہشت گردوں اور ان کے پشت پناہ عناصر کو نیست و نابود فرمائے۔

یہ سانحہ محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچا سمجھا **استعماری حربہ** ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں استعمار کو یہ کھلی چھوٹ حاصل ہے کہ وہ جب چاہے ملک کے امن و امان کو تہہ و بالا کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کے حملے ہندوستان جیسے ممالک میں اس آسانی سے نہیں ہو پاتے، لیکن پاکستان جو ایک اسلامی ملک ہے، وہاں دہشت گرد عناصر کو دانستہ طور پر پروان چڑھایا جاتا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ **ایران اور محورِ مقاومت سے دشمنی کا بدلہ مظلوم پاکستانی شیعوں سے لیا جائے۔**

ایک اور نہایت تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایسے دہشت گردانہ حملوں کے ذریعے “سیکیورٹی” کے نام پر شیعہ مسلمانوں کے بڑے اور منظم اجتماعات—چاہے وہ ہفتہ وار ہوں یا نمازِ جمعہ کی صورت میں—انہیں محدود یا بند کروانے کی سازش کی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف مذہبی آزادی پر حملہ ہے بلکہ انسانی حقوق اور آئینی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔

ہم حکومتِ پاکستان سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سنگین ناکامی کی ذمہ داری قبول کرے اور **فی الفور مستعفی ہو**۔ جو حکومت عبادت گزار شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہو، اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی یا شرعی جواز حاصل نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم **عالمِ تشیع کی قیادت** سے بھی دردمندانہ مگر دوٹوک انداز میں یہ امید اور التجا رکھتے ہیں کہ وہ اس غمناک اور لرزہ خیز واقعے پر محض رسمی بیانات پر اکتفا نہ کرے، بلکہ عملی اور مؤثر کردار ادا کرے۔
بالخصوص ہم **مراجعِ عظام**—جیسے **آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای، آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی** اور ایران و عراق کے دیگر بزرگ مراجعِ کرام—کی خدمت میں یہ عاجزانہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی حکومت اور اس کے ذمہ دار نمائندوں کی سخت بازپرس کریں، ان کی **کان مروڑی** کریں، اور ان پر سنجیدہ و فیصلہ کن دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اس مسئلے کو محض وقتی واقعہ نہ سمجھیں بلکہ پوری شدت، سنجیدگی اور دیانت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

مزید برآں، ہم پاکستانی عوام، بالخصوص مظلوم اور ستم زدہ طبقات، سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ **بین الاقوامی ہیومن رائٹس اداروں** میں باقاعدہ طور پر اپنے احتجاج اور شکایات درج کروائیں، تاکہ عالمی سطح پر حکومتِ پاکستان پر دباؤ بڑھے اور دہشت گردوں، انتہاپسندوں اور ان کے سرپرستوں کے مراکز اور اڈوں کو بند کروانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

ہم واضح طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنا، ظلم کے تسلسل کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اس خونِ ناحق کے سلسلے کو روکا جائے اور مظلوموں کو ان کا حق دلایا جائے۔

**مولانا سید تقی رضا عابدی**

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *