ایک کشمیری طالب علم کی والدہ نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بندش نے سفری ٹکٹ بھیجنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم ٹکٹ بک بھی کر لیتے ہیں تو انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے بچوں تک اسے پہنچانا مشکل ہے۔ ایسے حالات میں طلباء کے لیے خود سفر کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ سرپرستوں کا کہنا ہے کہ ایسے بحران کے وقت انفرادی سطح پر انتظامات کرنے کے بجائے حکومت کو باضابطہ طور پر طلباء کو نکالنا چاہیے، جیسا پہلے کیا گیا تھا۔ ایک اور فکرمند سرپرست نے کہا کہ حکومت کو بلا تاخیر ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہت پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت بچوں کی اُسی طرح محفوظ واپسی یقینی بنائے جیسے اس نے پہلے بحران کے وقت کیا تھا۔
ایران میں بحران کے درمیان ہندوستانی طلباء فکر مند، کشمیری سرپرستوں نے مودی حکومت سے مانگی مدد
