ٹرمپ کی غنڈہ گردی، بھتہ نہ دینے پر متعدد وینزویلائی وزراء کو جان سے مارنے کی دھمکی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کی عبوری حکومت 30 سے 50 ملین بیرل ایسا تیل امریکا کو فراہم کرے گی جو پابندیوں کی زد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وینزویلا سے حاصل کیا جانے والا یہ تیل عالمی منڈی کی قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے انتظام و اخراجات کی نگرانی وہ خود بطور صدر کریں گے۔

ٹرمپ نے مزید بتایا کہ انہوں نے وزیر توانائی کو ہدایت دی ہے کہ اس منصوبے پر فوری عملدرآمد شروع کیا جائے، تیل کو ذخیرہ کرنے والے ٹینکروں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا اور بعد ازاں امریکی بندرگاہوں پر اتارا جائے گا۔

دوسری جانب خبررساں ادارے رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وینزویلا کے وزرائے دفاع اور داخلہ امریکا کے ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا کے وزیر داخلہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے تعاون نہ کیا تو وہ ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں۔ واشنگٹن نے ثالثوں کے ذریعے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی مزاحمت ان کی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے یا انہیں صدر نیکولس مادورو جیسا انجام دیکھنا پڑ سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی فہرست میں وینزویلا کے وزیر دفاع بھی شامل ہیں، جن پر واشنگٹن منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات عائد کرتا ہے۔

ادھر امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ حکومت نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کو مطلع کیا ہے کہ تیل کی پیداوار میں اضافے کی اجازت دینے سے قبل چند شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

اے بی سی کے مطابق واشنگٹن کی شرائط میں ایک اہم شرط وینزویلا کے چین، روس، ایران اور کیوبا کے ساتھ اقتصادی تعلقات ختم کرنا شامل ہے۔

اسی طرح امریکا نے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ کاراکاس تیل کی پیداوار کے لیے واشنگٹن کے ساتھ خصوصی شراکت داری پر رضامندی ظاہر کرے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *