
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے حالیہ دعوے دراصل غیر سرکاری تنظیموں کو مبہم اسرائیلی ضوابط کے تحت دوبارہ رجسٹریشن کے ایک پیچیدہ عمل پر مجبور کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
ایم ایس ایف نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے الزامات نہ صرف طبی ٹیموں کی حفاظت کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ اس سے لاکھوں فلسطینیوں کو اہم طبی سہولیات سے محروم ہونے کا خطرہ ہے، جبکہ غزہ کا نظامِ صحت پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔ فی الحال، ایم ایس ایف نئے اسرائیلی قوانین کے تحت، جن میں عملے کے ناموں کے انکشاف کو لازمی قرار دیا گیا ہے، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں 31 دسمبر 2025 تک کام کرنے کے لیے اپنی رجسٹریشن کی تجدید کی منتظر ہے۔
تنظیم نے مہینوں سے جاری رابطوں کے باوجود اسرائیلی حکام کی جانب سے واضح معیار کی کمی پر مایوسی کا اظہار کیا۔ 30 دسمبر کو اسرائیل نے الزام لگایا تھا کہ ایم ایس ایف کے عملے کے مسلح مزاحمتی گروپوں کے ساتھ روابط ہیں۔ ایم ایس ایف نے زور دیا کہ وہ ان دعووں کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہے اور کبھی بھی جان بوجھ کر کسی ایسے شخص کو ملازمت نہیں دے گی جو فوجی سرگرمیوں میں ملوث ہو۔
تنظیم نے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تصدیق شدہ شواہد کے بغیر ایسے دعوے کرنا انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو خطرے میں ڈالتا ہے اور جان بچانے والی طبی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
ایم ایس ایف نے فلسطینی نظامِ صحت کی ابتر صورتحال پر روشنی ڈالی جو کہ مکمل تباہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ تنظیم نے طبی خدمات کو کم کرنے کے بجائے ان میں فوری توسیع کی ضرورت پر زور دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ایم ایس ایف غزہ میں ہسپتال کے ہر پانچویں بیڈ کی مدد کر رہی ہے، تمام ولادتوں کا ایک تہائی حصہ اس کے زیرِ انتظام ہے، اور 2025 میں اس نے تقریباً 800,000 آؤٹ پیشنٹ مشاورت فراہم کی اور 22,700 سے زائد آپریشن کیے۔
تنظیم نے رجسٹریشن کے قوانین کی عدم تعمیل کی رپورٹس کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جولائی 2025 سے حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اور مطلوبہ معلومات کا بڑا حصہ جمع کرا چکی ہے۔
یاد رہے کہ 22 دسمبر 2025 کو ایک پچھلے بیان میں ایم ایس ایف نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کے نئے رجسٹریشن قوانین 2026 تک غزہ میں لاکھوں لوگوں کو جان بچانے والی طبی سہولیات سے محروم کر سکتے ہیں۔ یکم جنوری سے این جی اوز کی رجسٹریشن کی ممکنہ منسوخی غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے دونوں جگہوں پر ضروری خدمات کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
