
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزارت خارجہ نے حالیہ امریکی حکام کے بیانات کے جواب میں دہائیوں پر محیط امریکہ کی دشمنانہ پالیسیوں کو یاد دلایا۔
ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مداخلت پسندانہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سیاستدانوں کی طویل تاریخ کو دیکھنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے دعوے، جو ایران کے عوام کی “بچاؤ” کے نام پر کیے جاتے ہیں، محض دعوے ہیں۔
بقائی نے کہا کہ اس تاریخی ریکارڈ میں شامل ہیں:
19 اگست 1953 کو منتخب حکومت محمد مصدق کے خلاف امریکی سازش کے تحت فوجی بغاوت، جس میں ہنگامہ کرنے والوں کو مالی اور اسلحہ فراہم کیا گیا
1988 میں ایک ایرانی مسافر طیارے کو مار گرایا، جس کے نتیجے میں خلیج فارس میں معصوم خواتین اور بچے شہید ہوئے
ایران کے خلاف آٹھ سالہ جنگ میں صدام حسین کی مکمل حمایت۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ مل کر ایرانی شہریوں کی ہلاکت اور ایران کے جوہری انفراسٹرکچر پر حملوں میں بھی ملوث رہا، اور ایران پر عائد پابندیاں تاریخ کی سب سے سخت پابندیوں کے زمرے میں آتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ فوجی دھمکیاں، جو ایرانی عوام کی “حمایت” کے بہانے کی جا رہی ہیں، بین الاقوامی قوانین کی بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایرانی عوام اپنے مسائل کا حل اپنی داخلی صلاحیت اور بات چیت کے ذریعے نکالیں گے اور کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔
