
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطین کے حامی مظاہرین جمعرات کی صبح ہیومینٹی الائنس اور نیشنل ول پلیٹ فارم کے زیرِ اہتمام ایک بڑے جلسے کے لیے گالاتا پل پر جمع ہوئے۔ منتظمین کے مطابق، نئے سال کے پہلے دن ہونے والے اس مظاہرے میں تقریباً 5 لاکھ 20 ہزار افراد نے شرکت کی، جنہوں نے ہاتھوں میں ترکی اور فلسطین کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔
یہ احتجاج ہم بزدلی نہیں دکھائیں گے، ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے کے نعرے لگاتے ہوئے منعقد ہوا، جس میں 400 سے زیادہ سول سوسائٹی تنظیمیں شامل تھیں اور اس کی قیادت ترکش یوتھ فاؤنڈیشن نے کی۔ جما دینے والی شدید سردی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد یہاں پہنچی، جبکہ پل کی طرف جانے والی سڑکیں ٹریفک کے لیے بند ہونے کی وجہ سے مظاہرین پیدل یا کشتیوں کے ذریعے پہنچنے پر مجبور ہوئے۔
احتجاج کے دوران فلسطینی علامتیں نمایاں طور پر دکھائی دیں، جن میں فلسطینیوں کی جلاوطنی اور پائیدار مزاحمت کی مشہور علامت ہینڈلہ کا ایک بڑا بینر بھی شامل تھا۔ مقررین کے مطابق، نئے سال کا آغاز فلسطین کے لیے اجتماعی دعا، شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور آنے والے سال کے بہتر ہونے کی امیدوں کے ساتھ کیا گیا۔ انہوں نے اس بڑے اجتماع کو نسل کشی کے خلاف ڈٹ جانے والے معاشرے کا ثبوت قرار دیا۔
اسی طرح کے احتجاجی مظاہرے سویڈن میں بھی ہوئے، جہاں نئے سال کی تقریبات منسوخ کرنے کے بعد مظاہرین وسطی اسٹاک ہوم میں جمع ہوئے۔ انہوں نے فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے اور مشعلیں اٹھائے سویڈش پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین نے سیگلز ٹورگ اسکوائر پر بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا غزہ میں بچے مارے جا رہے ہیں اور اسکولوں اور ہسپتالوں پر بمباری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور سویڈن کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
منتظمین نے ایک بیان میں کہا کہ ہم ناانصافی سے آنکھیں بند کر کے نئے سال کا آغاز نہیں کر سکتے ہیں۔ جب دنیا نئے سال میں داخل ہو رہی ہے، فلسطین میں نسل کشی اب بھی جاری ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں غزہ پر نسل کش جنگ شروع کی تھی، جس میں گزشتہ اکتوبر میں ہونے والے کمزور جنگ بندی معاہدے سے قبل 70,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے تھے۔ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے اس جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل نے غزہ بھر میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
