
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران میں تعیینات پاکستانی سفیر محمد مدثر ٹیپو نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت اور دیگر شعبوں میں ہماہنگی اور تعاون کا رشتہ موجود ہے۔
تفصیلات کے مطابق، تسنیم نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران باہمی تجارت کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت ہماری تجارت تقریباً 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور جیسا کہ وزیر اعظم پاکستان اور ایران کے صدر کے درمیان اتفاق ہوا ہے، اسے 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہم نے نہایت واضح اور ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ البتہ اس میں کچھ وقت لگے گا، کیونکہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں تجارت صرف لین دین تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق لاجسٹک چینز، سپلائی چینز، ضابطہ جاتی فریم ورک اور ادارہ جاتی و تنظیمی ڈھانچوں سے بھی ہوتا ہے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ اس سمت میں مضبوط سیاسی عزم موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ یقیناً کوریڈورز کا معاملہ بھی نہایت اہم ہے۔ علاقائی رابطہ کاری میں ایران کا کردار انتہائی کلیدی ہے۔ ایران، اسلام آباد اور ترکی کے درمیان ریلوے نیٹ ورک کو دوبارہ فعال کرنے کا منصوبہ ہے، اور جب یہ سلسلہ بحال ہوجائے گا تو میرا خیال ہے کہ ترقی کے بڑے امکانات پیدا ہوں گے۔ علاقائی رابطے کے شعبے میں ہم اس وقت ایران کے ساتھ چابہار اور گوادر کے درمیان مزید تعاون کے امکانات پر بات چیت کر رہے ہیں اور اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ میری نظر میں بندرگاہوں کے درمیان مسابقت کا مسئلہ نہیں بلکہ اصل بات تعاون کی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے پاس اپنے اپنے متنوع فوائد اور صلاحیتیں موجود ہیں۔
مدثر ٹیپو نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ایران اور پاکستان اقتصادی اور تجارتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تعاون کررہے ہیں۔ ایران-پاکستان آزاد تجارتی معاہدہ جلد حتمی شکل اختیار کرلے گا۔ اس معاہدے کے حتمی ہونے کا وقت بہت قریب ہے؛ تاہم میں بالکل واضح طور پر تاریخ نہیں بتا سکتا کہ یہ کب ہوگا۔ لیکن میری ذاتی رائے کے مطابق، اس میں تقریبا 3 ماہ لگ سکتے ہیں۔
ایران کے خلاف صہیونی حکومت اور امریکی جارحیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کی جائے یا بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی پامالی ہو، تو پاکستان ہمیشہ اپنے موقف کو نہایت واضح اور صریح انداز میں پیش کرتا رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جب ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان پہلا ملک تھا جس نے اعلان کیا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت خود دفاع کا حق حاصل ہے۔
بارہ روزہ جنگ میں ایران کی استقامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ ایران ایک نہایت مضبوط ملک ہے؛ اس کی تاریخ چھ ہزار سال پر محیط ہے اور اس نے بے شمار اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ صاف گوئی سے کہوں تو، اگر آپ مجھ سے ذاتی رائے پوچھیں، تو میں کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی ملک اتنا مضبوط، اتنا متحرک اور اپنے اصولوں پر ڈٹے رہنے کے لیے اتنا عزم و حوصلے والا ہوسکتا ہے۔ میں واقعی حیران رہ گیا کہ ملک بالکل معمول کے مطابق تھا اور کسی قسم کی افراتفری یا تعطل محسوس نہیں ہوا۔ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا، 12 روزہ جنگ ایک قسم کی عظیم آزمائش تھی، لیکن یہی ایران کی اصل پہچان ہے: ایران کا مضبوط عزم، عوام کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور معیاری قیادت۔
دونوں ملکوں کے درمیان جنگوں اور دیگر مواقع پر تعاون اور روابط کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون آپ نے چار روزہ اور بارہ روزہ جنگ کے دوران دیکھا ہے، اور میں پر امید ہوں کہ مستقبل میں یہ تعاون اور زیادہ مضبوط اور گہرا ہوگا۔ میری خواہش ہے کہ پاکستانی اور ایرانی عوام اپنے ممالک کی عظیم صلاحیتوں کو بہتر طور پر سمجھیں اور اس موقع کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں۔
