
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، افغان حکمران جماعت طالبان کے وزیر خارجہ امیرخان متقی نے کہا کہ ہمیں اس بات پر تشویش یہ ہے کہ بعض مفاد پرست لوگ افغانستان اور تاجکستان کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صورتحال غیر مستحکم ہے۔
متقی نے بتایا کہ تاجک وزیر خارجہ کے ساتھ بات چیت میں اتفاق ہوا کہ دونوں طرف سے قریبی تعاون کیا جائے گا تاکہ دوبارہ ایسے واقعات ہونے سے بچا جاسکے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے تیار ہے اور مذاکرات میں قومی مفادات اور اقدار کی بھرپور حمایت کرے گا۔ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ افغانستان دوبارہ بڑی طاقتوں کے مقابلے کا میدان بنے، بلکہ ہمارا ہدف ملک کو اقتصادی اور رابطے کے مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔
متقی نے آخر میں کہا کہ تاجیکستان کے ساتھ سرحد کے قریب حالیہ واقعات پر سنجیدہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ تاجیکستان نے گزشتہ ایک ماہ میں دعوی کیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین سے اس کی سرحد کے اندر تین حملے کیے گئے ہیں۔
