اسرائیل پر سائبر حملوں میں اضافہ، حملہ آوروں میں ایران سرفہرست

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تل ابیب سے شائع ہونے والے ایک عبرانی سائنسی جریدے نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے خلاف سب سے مؤثر اور شدید سائبر حملے کیے ہیں اور رواں سال اسرائیل کو سائبر ضربیں لگانے والے ممالک میں ایران سرفہرست رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، عبرانی زبان کے پی سی میگزین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان سائبر جنگ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ کم از کم گذشتہ تین برسوں سے جاری ہے۔ اس سائبر محاذ آرائی میں تخریبی کارروائیاں، جاسوسی سرگرمیاں اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوششیں شامل رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جون میں ہونے والی بارہ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے خلاف ایرانی سائبر حملوں میں نمایاں اور تیز رفتار اضافہ دیکھا گیا۔ اس دوران حملہ آور ہیکرز نے نہ صرف اپنے طریقۂ کار کو تیزی سے بدلا بلکہ سائبر اسپیس میں خود کو نئی صورتحال کے مطابق ڈھالنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔

پی سی میگزین نے کہا کہ 2025 کے اختتام تک یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ رواں سال اسرائیل کو سب سے زیادہ سائبر نقصان پہنچانے والا ملک ایران رہا، حالانکہ تل ابیب خود کو سائبر ٹیکنالوجی میں جدت پسند اور عالمی رہنما کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جون کے مہینے میں صہیونی حکومت کے خلاف حملوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا، جس میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کو شدید نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں سرکاری دفاتر، تعمیراتی کمپنیاں، ہیومن ریسورس فراہم کرنے والے ادارے اور لاجسٹک سروس سپلائرز شامل تھے۔

اسی تناظر میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسٹمز کلیئرنس کمپنیوں اور مواصلاتی انفراسٹرکچر سے وابستہ اداروں کو بھی ہیکرز کے قبضے میں لے لیا گیا۔

رپورٹ کے ایک اور حصے میں ان ہیکنگ گروپس کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں اسرائیل کے خلاف سب سے بڑے سائبر حملوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ ان گروپس میں موڈی واٹر، چارمنگ کٹن، ڈارک بِٹ، فینکس سائبر اسٹورم اور حنظلہ گروپ کے نام شامل ہیں، جو دیگر کے مقابلے میں زیادہ نمایاں رہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *