مسلم خاندان میں جائیداد کا جھگڑا خونریز سانحہ بن گیا — حاملہ بہو نے ساس کو ہتھوڑے سے مار کر قتل کیا، پھر نعش کو آگ لگا کر بھیانک ڈرامہ رچایا

دہلی کے وزیرآباد میں بہو کے ہاتھوں ساس کا قتل — ہتھوڑے کے وار، پھر آگ لگا کر ثبوت مٹانے کی کوشش

 

شمالی دہلی کے وزیرآباد علاقے میں 32 سالہ حاملہ خاتون آفرین کو اپنی 58 سالہ ساس نسرین بیگم کو قتل کرنے اور گھر میں آگ لگا کر ثبوت مٹانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واردات اچھی طرح سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت جائیداد کے تنازعے کے سبب انجام دی گئی

 

19 نومبر کی صبح پولیس کو ایک گھر میں آگ لگنے کی PCR کال موصول ہوئی۔ اطلاع دینے والے نے بتایا کہ ایک معمر خاتون گھر کے اندر پھنس گئی ہیں۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں پہنچیں اور پہلی منزل کی آگ بجھانے کے بعد ایک عورت کی جلی ہوئی لاش برآمد کی۔ اسے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں موت کی تصدیق ہوئی۔

 

نسرین اپنے تین بیٹوں—عدنان، رضوان اور سلمان—اور بہو کے ساتھ رہتی تھیں۔ عدنان اور رضوان پہلی منزل پر رہتے تھے اور واقعے کے وقت دونوں کام پر تھے۔ رضوان ایک اسکول میں استاد ہے۔ نسرین کا تیسرا بیٹا سلمان اپنی بیوی آفرین کے ساتھ دوسری منزل پر رہتا تھا۔ شادی اپریل 2024 میں ہوئی تھی۔

 

ابتدائی طور پر واقعہ آگ لگنے کا حادثہ لگا، لیکن پولیس کو آفرین کے بیانات میں شکوک پیدا ہوئے۔ اس نے پہلے کہا کہ تین چار مرد گھر میں گھس آئے، اس پر حملہ کیا اور زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے۔ بعد میں اس نے دعویٰ کیا کہ اسے بھی ہتھوڑے سے مارا گیا۔

 

تاہم جائے وقوعہ کی FSL اور کرائم ٹیم کی تفتیش میں خون سے لتھڑا ہوا ہتھوڑا ملا اور پورے کمرے میں کیروسین کی بو محسوس ہوئی۔ گھر کا ایک حصہ بھی آگ سے بری طرح متاثر تھا۔

 

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح ہوا کہ نسرین بیگم کے سر پر چار بھاری ضربیں ماری گئی تھیں جن سے ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ پولیس افسران کے مطابق شواہد اور بیانات سے پتہ چلا کہ قتل جائیداد کے تنازعے پر ہوا۔ آفرین کو شک تھا کہ ساس اپنی پراپرٹی چھوٹے بیٹے رضوان کے نام کرنے والی ہیں، جس کے بعد اس نے قتل کی منصوبہ بندی کی۔

 

شدید تفتیش کے دوران آفرین کے تضادات پکڑے گئے، اور بالآخر وہ ٹوٹ گئی اور سب کچھ قبول کر لیا۔ پولیس نے خون آلود ہتھوڑا تحویل میں لے لیا ہے، جبکہ آفرین کو حراست میں لے کر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

 

 

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *