. آسام میں نئی سیاسی گٹھ جوڑ کی آہٹ : مولانا بدر الدین اجمل کی پارٹی اے آئی یو ڈی ایف کا مجلس سے اتحاد کی جانب غیر معمولی جھکاؤ

. آسام میں نئی سیاسی گٹھ جوڑ کی آہٹ: مولانا بدر الدین اجمل کی پارٹی اے آئی یو ڈی ایف کا مجلس سے اتحاد کی جانب غیر معمولی جھکاؤ

 

آسام کی سیاست میں 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل نئی صف بندی کے امکانات نظر آرہے ہیں ۔مولانا  بدرالدین اجمل کی قیادت میں چلنے والی اے آئی یو ڈی ایف پارٹی نے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ انتخابی مفاہمت کی خواہش کا واضح اظہار کیا ہے۔ اس بات کی تصدیق پارٹی کے رکن اسمبلی مظیبر رحمان نے کی ہے۔

 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مظیبر رحمان نے کہا کہ بہار کے حالیہ انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین کی نمایاں کامیابی کے بعد اگر بیرسٹر اسدالدین اویسی دلچسپی دکھائیں تو ان کی جماعت اتحاد کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔

 

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کی پارٹی نے 2026 کے انتخابات میں 35نشستوں پر امیدوار کھڑے کرنے کا منصوبہ طے کر لیا ہے اور انھیں یقین ہے کہ ان میں سے کم از کم 25 پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

 

اے آئی یو ڈی ایف نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کی تیاریوں پر توجہ نہیں دے رہی۔ اس پارٹی کا کہنا ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ مفاہمت انہیں کانگریس سے بہتر کارکردگی دکھانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے، اور یہ مفاہمت ریاست میں ایک نئے تیسرے محاذ کی صورت میں بھی ابھر سکتا ہے۔

 

سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو آسام کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے اس تجویز پر باضابطہ ردِعمل کا انتظار ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *