مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک ٹائمز کی جانب سے غزہ جنگ کی جانبدارانہ کوریج اور اسرائیل کی حمایت پر مبنی بیانیے کے خلاف 300 سے زائد عالمی مصنفین، محققین اور سماجی شخصیات نے اس اخبار کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ادبی ویب سائٹ “لٹریری ہب” کے مطابق، ان افراد نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک نیویارک ٹائمز فلسطین اور غزہ سے متعلق تین بنیادی مطالبات کو پورا نہیں کرتا، وہ اس کے “اوپینین سیکشن” سے تعاون معطل رکھیں گے۔ ان میں تقریبا 150 افراد وہ ہیں جو ماضی میں نیویارک ٹائمز کے ساتھ بطور معاون یا کالم نگار وابستہ رہے ہیں۔
بیان میں اخبار پر تنقید کی گئی ہے کہ وہ مہمان کالم نگاروں کے ذریعے اپنی ساکھ کو قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی غزہ پر جنگی کارروائیوں کو جانبدارانہ انداز میں پیش کرتا ہے۔ دستخط کنندگان کا کہنا ہے کہ نیویارک ٹائمز کا “اوپینین سیکشن” غیرملکی اور غیرجانبدار تحریروں کے بغیر بے معنی ہوجائے گا۔
اس احتجاج میں شامل نمایاں شخصیات میں ریما حسن، چلسی مننگ، رشیدہ طلیب، گابور ماتے، سالی رونی، روپی کور، الیا سلیمان، مریم برغوثی، گرتا تھنبرگ، محمد الکرد، جیا تولنتینو، دیو زیرین اور عمر العقاد شامل ہیں۔ مذکورہ افراد نے واضح کیا کہ بائیکاٹ کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے اور مزید مصنفین اس میں شامل ہو رہے ہیں۔
بیان کا آغاز فلسطینی صحافی حسام شبات کے ایک اقتباس سے ہوتا ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں: “زبان نسل کشی کو قابلِ قبول بنا دیتی ہے۔ ہم آج بھی 243 دنوں کی مسلسل بمباری کا شکار ہیں، اور اس کی ایک وجہ نیویارک ٹائمز اور مغربی میڈیا کی خاموشی ہے۔” شبات کو بعد ازاں اسرائیلی حملے میں شہید کردیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جب فلسطینی عوام غزہ کی تباہ شدہ بستیوں میں واپس جارہے ہیں تو مغرب میں بسنے والے باشعور افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اداروں کو جوابدہ بنائیں جو ان مظالم میں شریک ہیں۔
بیان میں نیویارک ٹائمز پر دیرینہ ادارہ جاتی تعصب کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اس کے اسرائیلی جنگی جرائم سے متعلق مؤقف کو مبہم، توجیہاتی اور بعض اوقات انکار پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔ اخبار اسرائیلی حکومت کے حق میں بیانیہ مضبوط کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے، جو صہیونی لابی کے دباؤ میں آ کر اپنی خبروں کی نوعیت بدلتا ہے، اور اپنے لکھاریوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ “قتل عام”، “نسلی کشی” اور “مقبوضہ سرزمین” جیسے الفاظ استعمال نہ کریں۔
مذکورہ افراد نے نیویارک ٹائمز سے تین بنیادی مطالبات کیے ہیں:
1. اخبار اپنے فلسطین مخالف تعصب کا مکمل جائزہ لے، رپورٹنگ کے انداز، ذرائع کے انتخاب، حوالہ جات اور بھرتی کے طریقہ کار میں اصلاح کرے، اور اسرائیلی فوج سے وابستہ صحافیوں کی رپورٹنگ سے گریز کرے۔
2. دسمبر 2023 میں شائع ہونے والا وہ متنازع مضمون حذف کیا جائے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 7 اکتوبر کے واقعات کے دوران حماس نے جنسی زیادتی کی۔ یہ دعوی بعد ازاں جھوٹا ثابت ہوا اور اس کے مرکزی محقق کو سوشل میڈیا پر نسل کشی کی حمایت کرنے پر برطرف بھی کیا گیا۔
3. نیویارک ٹائمز اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کرے کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی مستقل طور پر بند کرے، کیونکہ صرف اسلحہ کی ترسیل روکنے سے ہی پائیدار جنگ بندی ممکن ہے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ہم فلسطینی صحافیوں اور لکھاریوں کے مقروض ہیں۔ ہمیں نیویارک ٹائمز سے لاتعلقی اختیار کرنی چاہیے، اس سے جواب طلبی کرنی چاہیے، اور اسے یہ باور کرانا چاہیے کہ وہ آئندہ کبھی اجتماعی قتل، تشدد اور جبری بے دخلی پر خاموشی اختیار نہ کرے۔
