امریکہ پر شٹ ڈاؤن کا خطرہ: ٹرمپ کو 60 ووٹ درکار، 55 ہی ملے، لاکھوں ملازمین پر لٹکی تلوار

ریپبلکن پارٹی نے حکومت کو 21 نومبر تک کھلا رکھنے کے لیے ایک قلیل مدتی بل پیش کیا تھا لیکن ڈیموکریٹس نے اس پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ یہ ناکافی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ٹرمپ کے مجوزہ میگا بجٹ سے میڈیکیڈ میں کی جانے والی کٹوتی واپس لی جائے اور افورڈ ایبل کیئر ایکٹ کے اہم ٹیکس کریڈٹ کو بڑھایا جائے۔ دوسری جانب ریپبلکن پارٹی نے ان شرائط کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کے درمیان شدید تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحران طویل ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف ملازمین بلکہ امریکی معیشت پر بھی پڑیں گے۔ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں 2018 کے شٹ ڈاؤن نے 34 دنوں تک سرکاری کام کاج مفلوج کر دیا تھا اور لاکھوں افراد کو بغیر تنخواہ کے گھر بیٹھنا پڑا تھا۔ اس بار خدشہ ہے کہ حالات اور بھی سنگین ہوں گے، کیونکہ صدر ٹرمپ کئی محکموں کو مستقل طور پر بند کرنے اور ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *