’عدلیہ کا سیاسی استعمال جمہوریت کے گلے پر چھری کے مترادف!‘ بی جے پی کی سابق ترجمان کی بطور جج تقرری پر کانگریس برہم

سپکال کے مطابق راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت کی منسوخی، چین کے معاملے پر ان کے سوالات پر عدالت کی جانب سے کیے گئے تبصرے، عدلیہ کے کردار پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام حکومت سے سوال کرنا ہے اور اگر عدالتیں بھی اس پر روک لگائیں گی تو جمہوریت کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

کانگریس صدر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عدلیہ سے ریٹائر ہونے کے بعد کئی جج حضرات کو گورنر، سفیر، راجیہ سبھا رکن یا اہم اداروں کے سربراہ کے طور پر تعینات کیا جا رہا ہے، جس سے ادارے کی آزادی پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں لیکن جو کچھ ہو رہا ہے وہ غلط مثال قائم کر رہا ہے۔‘‘

سپکال نے مطالبہ کیا کہ عدلیہ کی غیرجانبداری کو یقینی بنانے کے لیے سخت ضوابط وضع کیے جائیں تاکہ مستقبل میں سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد کی براہ راست تقرریاں روکی جا سکیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *