جے رام رمیش نے کہا کہ خبر کے مطابق وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان 35 منٹ طویل فون گفتگو ہوئی، جس میں مودی نے واضح کیا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان پر کارروائی امریکہ کی مداخلت پر نہیں بلکہ پڑوسی ملک کی درخواست پر روکی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ تجارتی امور پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
کانگریس رہنما نے سوال اٹھایا کہ جب صدر ٹرمپ 14 بار ثالثی کا دعویٰ کر چکے ہیں، تو وزیر اعظم مودی کو اس پر جواب دینے میں 37 دن کیوں لگے؟ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم مودی قوم کو واقعی باخبر رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں خود آ کر پارلیمنٹ میں بیان دینا چاہیے۔
