قابل ذکر ہے کہ بی بی سی کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نے اپنی تحقیق میں ہزاروں کلومیٹر کا سفر کیا۔ 11 ریاستوں اور 50 سے زائد ضلعوں میں جا کر 100 سے زائد کنبوں سے ملاقات کی۔ اس تحقیقات میں جو سامنے آیا، وہ یہ کہ کمبھ کے دوران مچی بھگدڑ میں جتنے لوگوں کی موت ہوئی، وہ حکوتم کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ تھی۔ بی بی سی کی اس رپورٹ میں مرنے والوں کی تعداد 82 بتائی گئی ہے۔
’اموات کی تعداد چھپانا ہی تو بی جے پی ماڈل ہے‘، کمبھ حادثہ سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ پر راہل گاندھی کا رد عمل
