’الیکشن کمیشن راہل گاندھی کے سوالوں کا جواب دے‘، انتخابات میں دھاندلی پر کانگریس صدر کھڑگے نے بھی اٹھائی آواز

اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کھڑگے نے کہا ہے کہ اب بھی 4 سوالات برقرار ہیں، جن کا جواب الیکشن کمیشن کو دینا چاہیے۔ وہ سوال ہیں:

1. مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ میں غیر معمولی اضافہ

2019 سے 2024 کی شروعات تک ریاست میں 31 لاکھ ووٹرس جڑے، لیکن لوک سبھا اور اسمبلی انتخاب کے درمیان کے محض 5 ماہ میں 41 لاکھ نئے نام جڑ گئے۔

یہ اچانک اور غیر معمولی اضافہ کیسے اور کیوں ہوا؟

2. ووٹنگ فیصد میں تضاد

الیکشن کمیشن نے 5 بجے تک 58.73 فیصد ووٹنگ کا اعلان کیا، لیکن حتمی نمبر 66 فیصد بتایا گیا۔

کیا اس 7 فیصد کے اضافہ کی تصدیق کرنے والی کوئی ویڈیو اور سی سی ٹی وی فوٹیج ہے؟

3. حکومت نے قانون میں تبدیلی کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جگہ وزیر داخلہ کو کمیٹی میں شامل کیا۔

کیا اس سے الیکشن کمیشن کی خود مختاری متاثر نہیں ہوئی؟

4. ووٹر لسٹ اب تک منظر عام پر کیوں نہیں لایا گیا؟

2024 لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے لیے حتمی ووٹر لسٹ اب تک کیوں نہیں جاری کیا گیا۔ یہ پبلک انفارمیشن کیوں چھپائی جا رہی ہے؟ اگر الیکشن کمیشن کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہے تو اسے بلاتاخیر یہ ڈاٹا جاری کرنا چاہیے۔

(الف) ڈیجیٹل اور مشین ریڈیبل ووٹر لسٹ، جس میں مکمل ورزن تاریخ اور اَپڈیٹ کا ٹائم اسٹامپ سمیت۔

(ب) اسمبلی انتخابات کے دوران مہاراشٹر بھر کے پولنگ مراکز سے شام 5 بجے کے بعد کی سبھی سی سی ٹی وی فوٹیج یا ویڈیوگرافی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *