قابل ذکر ہے کہ عدالت اس معاملے میں بدھ کو وزیر شاہ کی جانب سے داخل کردہ خصوصی درخواست (ایس ایل پی) پر دوبارہ سماعت شروع کرے گی، جس میں انہوں نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
وزیر شاہ نے 12 مئی کو مدھیہ پردیش کے رائے کنڈہ گاؤں میں ایک جلسے کے دوران ‘آپریشن سندور’ کے حوالے سے ایک متنازع بیان دیا تھا، جس میں انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کا جواب دینے کے لیے ‘اسی کمیونٹی کی ایک بہن’ کو بھیجنے کی بات کہی تھی۔ ان کا اشارہ خاتون فوجی افسر صوفیہ قریشی کی جانب تھا، جو مذکورہ آپریشن کا حصہ تھیں۔ بیان کے بعد ملک گیر سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
