قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں ایسا پہلی بار ہوا ہے، جب عدالت نے اپنا ہی فیصلہ واپس لیا ہو۔ 27 فروری کو سپریم کورٹ نے اظہر الاسلام کو اس کی سزائے موت کو چیلنج دینے کے لیے عدالت میں نئی عرضی داخل کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس سید رفاعت احمد کر رہے تھے، نے اس فیصلے میں کہا کہ اظہر الاسلام کو سنائی گئی سزائے موت “انصاف کے نام پر ایک ناانصافی” تھی۔ عدالت نے اس سزا کو عالمی تاریخ میں انصاف کے نام پر ہونے والی ناانصافیوں کی ایک مثال قرار دیا۔
