طلبہ کے درمیان اس بار شدید تذبذب پایا جا رہا ہے۔ اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز (ایس ایل ایل اینڈ سی ایس) سے ماسٹرز کی طالبہ رانی کماری کا کہنا ہے کہ ’عمومی طور پر جے این یو میں بائیں بازو کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے، مگر اس بار تقسیم کی وجہ سے ووٹ بٹ سکتے ہیں اور اے بی وی پی کو فائدہ مل سکتا ہے۔‘‘
ایک طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’’اس بار اسکول جنرل باڈی میٹنگز تک نہیں ہوئیں۔ میں نے پانچ انتخابات دیکھے ہیں، مگر اس بار شفافیت کم محسوس ہوئی۔‘‘
پی ایچ ڈی کی طالبہ دھاتری کے مطابق ’’اے آئی ایس اے نے گزشتہ برسوں میں کئی مثبت تبدیلیاں کیں، جیسے بند بارک ہاسٹل کو کھلوانا اور طلبہ کے خلاف تحقیقات رکوانا۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ اے آئی ایس اے-ڈی ایس ایف کو اچھا موقع حاصل ہے۔‘‘ نتائج کے حوالے سے کیمپس میں بے چینی ہے اور سب کی نظریں اب 28 اپریل پر مرکوز ہیں۔
