
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ حالیہ برسوں میں یورپی ٹرائیکا (فرانس، جرمنی، برطانیہ) کے ساتھ ایران کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔
ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں، اس وقت یہ تعلقات تنزلی کی حالت میں ہیں۔ کیوں؟ ہر فریق کا اپنا خاص بیانیہ ہے۔ میرے خیال میں الزام تراشی ایک بے معنی رویہ ہے جب کہ موجودہ صورت حال فریقین کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ستمبر کو نیویارک میں تینوں یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے دوران انہیں بات چیت کی پیشکش کی۔
میں نے کہا کہ آئیے محاذ آرائی کے بجائے تعاون کا انتخاب کریں، نہ صرف جوہری مسئلے پر بلکہ ہر اس مسئلے میں جہاں ہمارے مشترکہ مفادات اور تحفظات ہیں، لیکن بدقسمتی سے، انہوں نے مشکل راستے کا انتخاب کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اب گیند یورپیوں کے کورٹ میں ہے۔” ان کے پاس موقع ہے کہ وہ خود کو “خصوصی مفاد پرست گروہوں” کے اثر و رسوخ سے آزاد کرتے ہوئے ایک مختلف راستہ اختیار کریں۔ اس نازک موڑ پر ہمارے طرزعمل سے مستقبل کے افق کا تعین ہو جائے گا۔
