انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے جو باتیں بیرون ملک کہیں وہ ایک حزب اختلاف کے رہنما کے طور پر ان کا فرض تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب وزیر اعظم نریندر مودی چین، امریکہ، جرمنی اور دیگر ممالک میں جا کر کہتے ہیں کہ 2014 سے پہلے جو ہندوستان میں پیدا ہوا وہ خود کو کوستا تھا، تو پھر راہل گاندھی کی باتوں کو ملک کی توہین کہنا کہاں تک درست ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہندوستان میں پیدا ہونا سب سے بڑے فخر کی بات ہے۔
بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے پاس عوامی مسائل پر بات کرنے کا وقت نہیں ہے، بلکہ ہر طرح کی سیاسی ڈرامے بازی کے لیے وقت نکال لیتی ہے۔ چھتیس گڑھ کی حالت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں ہر گھنٹے پانچ نابالغ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مقدمات درج ہو رہے ہیں، جو انتہائی سنگین صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بچیوں اور قبائلی برادریوں کی حالت پر بات ہونی چاہیے، کیونکہ یہ اصل مسائل ہیں جنہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
سپریا شرینیت نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو سچائی کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ جھوٹ کے شور میں سچ دب جاتا ہے۔
