شادی کرو ورنہ نوکری سے نکال دیں گے۔چین کی کمپنی کی پالیسی

نئی دہلی ۔ چین کی ایک کمپنی نے حیران کن پالیسی متعارف کروائی ہے جس کے تحت غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ ملازمین کو ستمبر تک شادی نہ کرنے کی صورت میں ملازمت سے برطرف کی دھمکی دی گئی ہے۔ تاہم اس پالیسی کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

 

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق چین کے صوبہ شیڈونگ میں واقع شینتیان کیمیکل گروپ نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ 28 سے 58 سال کی عمر کے غیر شادی شدہ یا طلاق یافتہ ملازمین کو ستمبر کے آخر تک شادی کرنی ہوگی۔  جون میں کمپنی نے خبردار کیا تھا کہ اگر کسی نے مقررہ مدت کے اندر شادی نہ کی تو انہیں ملازمت سے برخاست کر دیا جائے گا۔

 

کمپنی نے اس متنازعہ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شادی کی شرح کو بہتر بنانے کے حکومتی مطالبے کو نظر انداز کرنا “خیانت” کے مترادف ہے۔ کمپنی کے بیان میں کہا گیا “اپنے والدین کی بات نہ ماننا مناسب نہیں، خود کو تنہا چھوڑ دینا انسانیت کے خلاف ہے، اور اپنے ساتھی ملازمین کی توقعات پر پورا نہ اترنا ناانصافی ہے۔

 

شیڈونگ صوبے میں اس پالیسی کو سخت عوامی ردعمل اور حکومتی مداخلت کے بعد فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔ ناقدین نے اسے جارحانہ اور امتیازی قرار دیا۔ 13 فروری کو مقامی انسانی وسائل اور سماجی تحفظ بیورو نے کمپنی کا معائنہ کیا جس کے بعد محض ایک دن کے اندر پالیسی منسوخ کر دی گئی۔ کمپنی نے یہ بھی تصدیق کی کہ کسی ملازم کو ازدواجی حیثیت کی بنیاد پر نوکری سے نہیں نکالا گیا۔

 

قانونی ماہرین نے اس پالیسی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی جبکہ سوشل میڈیا صارفین نے اسے لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت قرار دیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *