اپنی پارٹی کے باغی اراکین پارلیمنٹ کے متعلق سنجے راؤت نے کہا کہ ’’غداروں کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ اوم راجے نمبالکر ایک بدنام زمانہ غدار ہے۔ شیوسینا کو توڑنا مہاراشٹر کو توڑنے جیسا ہے۔ ادھو ٹھاکرے جانتے ہیں کہ اوم راجے کو سب سے پہلے 15 کروڑ روپے کس نے دیے تھے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’دھاراشیو میں جو ترقی نظر آ رہی ہے وہ گزشتہ حکومتوں کے دور اقتدار میں ہوئی تھی۔ صرف چینی ملیں لگانے سے ترقی نہیں ہوتی بلکہ ترقی اجتماعی کوششوں سے ہوتی ہے۔ اگر کسی رکن پارلیمنٹ کو لگتا ہے کہ 100 کروڑ روپے اپنی جیب میں ڈالنا ہی ترقی ہے تو یہ سوچ غلط ہے۔‘‘
بھگوان رام کے ’آشیرواد‘ سے اقتدار میں آئی بی جے پی اب رام کے ’شراپ‘ سے ہی حکومت سے باہر ہوگی: سنجے راؤت
