
مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنماء ڈاکٹر ناصر عباس شیرازی نے مہر نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران نے اپنے عملی اقدامات سے ثابت کیا ہے کہ وہ مزاحمتی بلاک، بالخصوص لبنان، فلسطین اور دیگر مزاحمتی تحریکوں کی حمایت سے دستبردار ہونے والا نہیں اور اس مقصد کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور اسلام آباد معاہدے کے دوران ہی لبنان میں جنگ بندی کو ایک بنیادی شرط کے طور پر پیش کیا تھا۔ جنگ بندی کی شرائط کا ذکر اُس وقت پاکستان کے وزیر اعظم نے بھی کیا تھا۔ بعد ازاں جب اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تو ایران نے شدید ردعمل ظاہر کیا، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق اس کا قانونی حق تھا۔
ڈاکٹر ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ حالیہ مفاہمتی یادداشت میں بھی لبنان میں فوری جنگ بندی کا واضح ذکر موجود ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران خطے میں استحکام اور مزاحمتی قوتوں کے تحفظ کو اپنی پالیسی کا اہم جزو سمجھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باوجود ایران نے واضح کر دیا کہ وہ مزاحمتی محاذ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ایران نے اپنے اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ خطے میں طاقت کے توازن اور مزاحمتی قوتوں کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنماء نے اسرائیل کو “نسل کش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ اور لبنان میں جاری جارحیت کے بعد اسرائیل خطے کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس کا حقیقی چہرہ اب عالمی برادری کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب لبنانی مزاحمت نے مختلف محاذوں پر اسرائیل کو شکستوں سے دوچار کرتے ہوئے اس کے عسکری دعوؤں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کی برتری سے متعلق کئی تصورات بھی متاثر ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر ناصر عباس شیرازی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محورِ مقاومت اپنے اصولی مؤقف اور اہداف پر ثابت قدم رہے گا اور کسی بھی دباؤ کے باوجود اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوگا۔
