
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات کے آغاز سے قبل ایرانی اور امریکی وفود نے پاکستانی اور قطری ثالثی وفود کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
قطری وفد کی قیادت وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر محمدباقر قالیباف نے پاکستانی وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے سوئٹزرلینڈ کے علاقے بورگن اشٹوک میں پاکستانی ثالثی وفد سے ملاقات کی۔
اس موقع پر امریکی وفد کو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مصافحہ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
سید عباس عراقچی نے مذاکرات سے قبل اپنے سوئس ہم منصب سے بھی ملاقات کی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی، جو ایرانی وفد کے ہمراہ ہیں، نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ مذاکرات ایک روز پر محیط ہونے کی توقع ہے اور امکان ہے کہ آج ہی اختتام پذیر ہو جائیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے تسلسل کے تناظر میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد لبنان کی صورتحال پر غور کے لیے مذاکرات کے دوران ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا۔
سوئس میزبانوں نے ایران اور امریکا کے درمیان ان مذاکرات کو “لیک لوسرن سمٹ” کا نام دیا ہے، جس میں پاکستان اور قطر کے اعلیٰ حکام ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
