
عادل آباد۔ 20/جون (اردو لیکس)عادل آباد ضلع کے سرکونڈہ منڈل کے پونا گاؤں سے تعلق رکھنے والے مثالی کسان پانڈورنگا کی خودکشی کے بعد بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے خاندان کو پارٹی کی جانب سے 3 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی اور ریاستی حکومت سے فوری طور پر 25 لاکھ روپے ایکس گریشیا دینے کا مطالبہ کیا۔
کے ٹی آر نے کہا کہ اگر حکومت کسانوں کی فصلیں نہ خریدے تو کسان کانگریس لیڈروں کے گھروں کے سامنے احتجاج کریں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں، لیکن کسی بھی صورت میں حوصلہ نہ ہاریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں پیش آنے والی کسانوں کی خودکشیاں دراصل کانگریس حکومت کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کے دور میں زراعت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت نہیں مل رہی اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ بونس بھی ادا نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث کسان معاشی مشکلات میں گھر گئے ہیں۔
کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ پانڈورنگا ایک ماہ تک اپنی جوار کی فصل مارکیٹ یارڈ میں فروخت ہونے کے انتظار میں رہے، لیکن خریداری نہ ہونے اور حکام کی بے توجہی سے دلبرداشتہ ہو کر انہوں نے خودکشی کر لی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ریاست میں کسانوں کی ابتر صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پانڈورنگا کے تین بچوں کی مکمل ذمہ داری قبول کی جائے اور انہیں خصوصی طور پر سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں۔ ساتھ ہی کسان بیمہ کی بقایاجات فوری ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
کے ٹی آر نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ خودکشی جیسے انتہائی قدم سے گریز کریں اور اپنے خاندانوں کو یتیم نہ چھوڑیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بی آر ایس پارٹی کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور آئندہ بھی کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔
اس موقع پر سابق وزراء جوگو رامنا، پرشانت ریڈی، ارکان اسمبلی انیل جادھو، کووا لکشمی، پاڈی کوشک ریڈی، ڈاکٹر سنجے، بی آر ایس جنرل سکریٹری جیون ریڈی، جانسن نائک سمیت متعدد پارٹی قائدین موجود تھے۔
