
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک صہیونی نیٹ ورک نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے ابتدائی مرحلے میں متحدہ عرب امارات کے اعلی سطحی سیکیورٹی حکام نے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں کا خفیہ دورہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق اماراتی حکام نے مارچ میں ہونے والی اس پیش رفت کے دوران اسرائیلی اعلی فوجی حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں دونوں فریقین کے درمیان سیکیورٹی اور انٹیلیجنس تعاون سے متعلق امور پر مشاورت کی گئی۔
بتایا گیا ہے کہ اس دورے کے لیے استعمال ہونے والا طیارہ بوئنگ 737 تھا جو اماراتی حکمران خاندان کے خصوصی استعمال میں رہتا ہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے بھی یہ دعوی کیا تھا کہ جنگ کے دوران نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کا ایک خفیہ دورہ کیا اور وہاں ملک کے اعلی حکام سے ملاقات کی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلے بھی یہ انکشافات سامنے آچکے ہیں کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران دونوں فریقین کے درمیان مختلف سطحوں پر تعاون موجود رہا ہے۔
