
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں اور دعوؤں کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ ابھی تک کسی معاملے پر آخری فیصلہ نہیں ہوا اور ایران بھی کسی حتمی جمعبندی تک نہیں پہنچا ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کے متضاد اور بدلتے ہوئے مؤقف کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کئی ماہ کے دوران مختلف امریکی عہدیداروں کی جانب سے بارہا متناقض بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایران نے ہمیشہ حسن نیت اور ذمہ دارانہ رویے کے ساتھ سفارتی عمل میں شرکت کی ہے۔
بقائی نے کہا کہ مذاکراتی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ابتدا ہی سے امریکی حکام کے غیر مستقل اور متضاد رویے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران دو مرتبہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں کیں اور متعدد جارحانہ اقدامات انجام دیے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود امریکہ اور اسرائیل نے کئی بار اس کی خلاف ورزی کی۔ حالیہ دنوں میں جنوبی ایران کے بنیادی ڈھانچے اور سیریک میں پانی کے دو ذخائر پر حملے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف امریکہ مذاکرات اور سفارت کاری کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری طرف طاقت کے استعمال اور غیر قانونی اقدامات کا سہارا لیتا ہے۔ مذاکراتی متن کا بڑا حصہ تقریبا تیار ہو چکا تھا، تاہم ہر مرحلے پر امریکی حکام نئی شرائط پیش کرتے رہے یا اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے رہے، جس کے باعث حتمی پیش رفت ممکن نہ ہوسکی۔
