موجودہ دور میں اسلاف کی علمی روایات کو زندہ کرنے کی اشد ضرورت: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حیدرآباد، 11 جون (پریس ریلیز): علم وہ ابدی روشنی ہے جس کی تابناک کرنیں صدیوں کے فاصلے سمیٹ کر بھی انسانیت کے قلب و ذہن کو منور کرتی رہتی ہیں۔ تاریخِ اسلام اس حقیقت پر شاہد ہے کہ ہمارے اسلافِ کرام نے علومِ قرآن و حدیث کے تحفظ، فروغ اور اشاعت کے لیے فقر و فاقہ، شب بیداری، مسلسل جدوجہد، طویل اسفار اور بے شمار صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ انہوں نے علم کو محض دنیاوی منفعت یا ذریعۂ معاش نہیں بلکہ امانتِ نبوت اور ذریعۂ نجات سمجھا۔ یہی سبب ہے کہ ان کے اخلاص، قربانی اور علمی دیانت کی خوشبو آج بھی امتِ مسلمہ کے فکری افق کو معطر کر رہی ہے۔
لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے پریسیڈنٹ مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا کہ اسلامی تاریخ اسلافِ امت کی علم دوستی، خودداری، ایثار، استقامت اور بے مثال قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ ہمارے اکابرین نے علومِ دین کے حصول اور ان کے تحفظ کے لیے ایسی عظیم جدوجہد انجام دی جس کی مثال دنیا کی علمی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ انہوں نے شدید غربت، فاقہ کشی، طویل پیدل اسفار، مسلسل مطالعہ اور شب بیداری کے ذریعے علومِ قرآن و سنت کو محفوظ کیا اور آنے والی نسلوں تک منتقل فرمایا۔
انہوں نے کہا کہ امام ابنِ مقری کا صرف ایک حوالہ کی تصحیح کے لیے ستر دن کا سفر کرنا، خطیب تبریزی کا ایک کتاب کے صحیح فہم کے لیے پسینے میں شرابور ہو کر طویل پیدل سفر اختیار کرنا، حضرت ابراہیم بن اسحاق حربی کا شدید فقر و افلاس کے باوجود اپنی کتابوں کو عزتِ علم قرار دینا اور محدثین و فقہاء کا راتوں کو جاگ جاگ کر علم کے موتی جمع کرنا اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ علم کبھی آرام طلبی، سہولت پسندی اور محض دعووں سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے قربانی، اخلاص، صبر، استقامت اور غیر معمولی محنت درکار ہوتی ہے۔
مولانا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو جن فکری، اخلاقی اور معاشرتی بحرانوں کا سامنا ہے، ان کی بنیادی وجہ علم سے دوری اور اسلاف کے علمی مزاج سے انحراف ہے۔ موجودہ معاشرہ دنیاوی تعلیم کے حصول کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دیتا ہے مگر دینی علوم کی طرف وہ توجہ، احترام اور سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی جو ہمارے اسلاف کا طرۂ امتیاز تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج اسلامی علوم کے حقیقی وارث معاشی مسائل، سماجی بے قدری اور فکری انتشار کا شکار ہیں، حالانکہ انہی علوم نے کبھی دنیا کو عدل، تہذیب، امن، اخلاق اور انسانیت کا عظیم درس دیا تھا۔
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ نوجوان نسل میں علم سے محبت، مطالعہ کا ذوق، تحقیق و جستجو کا شعور اور اسلاف کی علمی روایات کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ مدارس، جامعات، مساجد اور علمی اداروں کو جدید تقاضوں کے مطابق فعال اور مؤثر بنا کر دینی و عصری علوم کے درمیان مضبوط ربط قائم کیا جائے تاکہ امتِ مسلمہ ایک بار پھر علمی میدان میں اپنا کھویا ہوا وقار اور مقام حاصل کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی اور نافع علم وہی ہے جو انسان کے کردار، فکر اور معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کرے۔ اسلافِ امت کی زندگیاں ہمیں صبر، خودداری، حق گوئی، اخلاص، دیانت اور خدمتِ دین کا عملی سبق دیتی ہیں۔ اگر آج بھی اہلِ علم ان اوصافِ حمیدہ کو اپنا شعار بنا لیں تو امتِ مسلمہ دوبارہ عزت، وقار اور فکری بالادستی کی راہوں پر گامزن ہو سکتی ہے۔
آخر میں مولانا نے کہا کہ علمی و دینی اداروں کو چاہیے کہ وہ اسلاف کی علمی روایات کو جدید اسلوب اور عصری تقاضوں کے مطابق زندہ کرنے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ نوجوان نسل کو فکری گمراہی، انتہا پسندی اور بے مقصدیت سے محفوظ رکھا جا سکے اور علم، حکمت، اعتدال اور صالح فکر پر مبنی ایک مہذب اور باوقار معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ :::
