نتن یاہو کی غیر ذمہ دارانہ مہم جوئی نے پورے خطے کو خطرے میں ڈال دیا، صہیونی اخبار

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار معاریو نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر حالیہ اسرائیلی حملے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کی ایک غیر ذمہ دارانہ مہم جوئی قرار دیا ہے جس کا مقصد انتخابات کو مؤخر کرنا اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچانا ہے۔

معاریو میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اسرائیلی صحافی اور کالم نگار دان بیری نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے سیاسی اور فوجی طرز عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ الضاحیہ پر حملہ ایک حیران کن غیر ذمہ داری ہے جس نے پورے خطے کو دوبارہ خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ اس سے نہ کوئی تزویراتی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی کوئی سوچا سمجھا مقصد حاصل ہوا ہے۔

اخبار نے اس کارروائی کو بے سود قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس کا واحد نتیجہ شمالی مقبوضہ علاقوں پر ایران کا بیلسٹک میزائل حملہ اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر خطے میں جاری جنگ کے خاتمے کی خواہش کا اظہار کر چکے تھے۔

معاریو نے مزید لکھا کہ امریکہ سے اسرائیل کی مکمل خودمختاری ایک فریب سے زیادہ کچھ نہیں۔ اخبار کے مطابق امریکی فضائی معاونت، اسلحے کی فراہمی، اقوام متحدہ میں ویٹو کے استعمال اور یورپ و بین الاقوامی اداروں کے مقابلے میں سفارتی حمایت کے بغیر اسرائیل کسی بڑی جنگ کو چند ہفتوں سے زیادہ جاری نہیں رکھ سکتا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل خود کو ایک ایسی مشکل صورت حال میں لے آیا ہے جہاں اسے ایک طرف ایران کی بمباری کو روکنا ہے اور دوسری طرف آبادکاروں کے تحفظ اور سکون کی ذمہ داری بھی نبھانی ہے، کیونکہ وہ امریکی حمایت کے بغیر وسیع پیمانے کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

مضمون میں امریکہ کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کی مخالفت کو داخلی سیاسی عوامل سے جوڑا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ عوامی غم و غصے، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور وسط مدتی انتخابات جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ایک طویل علاقائی جنگ انہیں سیاسی طور پر کمزور کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ریپبلکن جماعت کانگریس پر اپنا کنٹرول بھی کھو سکتی ہے، جس کے بعد تحقیقات اور حتی کہ صدر کے مواخذے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی صحافی نے مزید لکھا کہ واشنگٹن جنگ سے باعزت انداز میں نکلنے کا خواہاں ہے، لیکن الضاحیہ میں کشیدگی بڑھانے پر تل ابیب کا اصرار امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شدید دباؤ اور تناؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نتن یاہو کے سیاسی مقاصد میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ جہاں ٹرمپ خطے میں استحکام کے متلاشی ہیں، وہیں نتانیاہو رائے عامہ کے جائزوں میں مسلسل پیچھے رہنے اور انتخابی شکست کے خدشات کے باعث موجودہ سیاسی منظرنامے کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *