
مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کو ناکام بنانے یا ان میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
ہاکان فیدان نے جنوبی کوریا کے ٹی وی چینل JTBC کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے کافی امید ہے، کیونکہ وہ باقاعدگی سے دونوں فریقوں، پاکستانی ثالثوں اور اس معاملے میں شامل دیگر علاقائی کرداروں سے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکی دونوں ممالک کو کسی معاہدے تک پہنچانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے بقول اگرچہ بعض تکنیکی اور تفصیلی مسائل ابھی موجود ہیں، تاہم ان کا خیال ہے کہ ایران اور امریکہ ابتدائی معاہدے کے حتمی مسودے کے متن پر مجموعی طور پر اتفاق رائے تک پہنچ چکے ہیں۔
ترک وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ اس حوالے سے جلد مثبت اور خوش آئند خبریں سامنے آئیں گی۔
ہاکان فیدان نے اسرائیل کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تل ابیب موجودہ صورتحال میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیل اس سفارتی عمل کو متاثر کرنے، اس کا رخ موڑنے یا اسے سبوتاژ کرنے کے لیے کسی بھی کوشش سے گریز نہیں کر رہا۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق سفارتی ذرائع سے اختلافات کے حل اور خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔
