میزائل حملہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جواب، لبنان کی حمایت جاری رہے گی، ایرانی وزارت خارجہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے مشیر اور ترجمان کے معاون علی صفری نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوری ایران کی طرف سے اسرائیل پر حالیہ میزائل حملہ صہیونی جارحیت اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں ایک دفاعی اقدام تھا۔

المیادین کو دیے گئے انٹرویو میں علی صفری نے بتایا کہ ایران نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا، تاہم اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر حملوں اور بیروت کے جنوبی مضافات کو دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا، جس سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا بنیادی حصہ تھا اور اس پر بیک وقت ایران اور لبنان میں عمل درآمد ہونا چاہیے تھا، لیکن اسرائیل نے اپنی کارروائیوں سے اس عمل کو متاثر کیا۔ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی اقدامات نے سرخ لکیریں عبور کر لیں اور لبنان میں سنگین جرائم کا سبب بنے۔

علی صفری نے امریکہ کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے اسرائیلی اقدامات پر خاموشی اختیار کرکے، بلکہ بعض مواقع پر گرین سگنل دے کر، ان حملوں کے تسلسل کی راہ ہموار کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران خطے کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور اگر امریکہ مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو اسے لبنان کے خلاف جارحیت اور ایران کے خلاف دشمنانہ اقدامات رکوانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ ماضی کے تجربات کی بنا پر تہران امریکی مؤقف کو احتیاط اور بداعتمادی کی نظر سے دیکھتا ہے، تاہم ایران ہر ممکنہ صورتحال، خواہ کشیدگی میں اضافہ ہو یا سفارتی عمل کی پیش رفت، کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران لبنان، مزاحمتی قوتوں اور لبنانی عوام کی حمایت جاری رکھے گا اور اس پالیسی کو ایرانی قیادت کی ہدایات کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *