
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کے دوران گنجان آباد علاقوں میں سفید فاسفورس پر مشتمل گولہ بارود استعمال کیا۔
رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز کی جانچ پڑتال سے ایسے دھوئیں اور شعلوں کے آثار سامنے آئے ہیں جو سفید فاسفورس ہتھیاروں کے استعمال سے مطابقت رکھتے ہیں۔
اخبار کے مطابق مارچ میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کے آغاز کے بعد ساحلی شہر طایر اور قصبوں خیام، القلیعہ اور یحمر میں بھی سفید فاسفورس کے استعمال کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سفید فاسفورس ہوا کے ساتھ رابطے میں آتے ہی خود بخود بھڑک اٹھتا ہے اور اسے بجھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اگرچہ اس مادے پر مکمل پابندی نہیں، تاہم شہری آبادی یا رہائشی علاقوں میں اس کا دانستہ استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ویڈیوز میں لبنان کی فضاؤں میں توپ خانے کے گولوں کے دھماکے اور جلتے ہوئے سفید فاسفورس کے ذرات کی بارش دیکھی جاسکتی ہے، جو ماضی میں اسرائیل کے زیر استعمال امریکی ساختہ M825A1 گولہ بارود سے مشابہت رکھتے ہیں۔
لبنانی حکومت اکتوبر 2023 سے اب تک متعدد بار اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل کو خطوط ارسال کر چکی ہے جن میں رہائشی علاقوں کے خلاف سفید فاسفورس کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان میں 600 سے زائد آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔
دوسری جانب ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ سفید فاسفورس جلد کے ساتھ لگنے پر شدید جھلساؤ کا باعث بنتا ہے، جبکہ اس کے دھوئیں کا سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونا نظامِ تنفس اور آنکھوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
