لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایرانی حکام کا صہیونی حکومت اور امریکہ کو سخت انتباہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی، جس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنا تھا، اب اسرائیلی جارحیت کے باعث شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ صہیونی حکومت کی جانب سے لبنان کے رہائشی علاقوں پر کی جانے والی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں لبنانی شہری شہید و زخمی جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ایران نے صہیونی جارحیت اور لبنان پر حملے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کی صورتحال کوئی مقامی بحران نہیں بلکہ یہ پورے خطے کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ اعلی سیاسی اور دفاعی حکام نے صہیونی حکومت اور امریکہ کو لبنان پر جارحیت سے باز رہنے کا انتباہ کرتے ہوئے جنگ بندی کی پابندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کو جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک اہم ترین پیغام میں واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی بغیر کسی ابہام کے لبنان سمیت تمام محاذوں پر لاگو ہوتی ہے۔ اسے کسی ایک مخصوص میدان تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ اگر کسی بھی محاذ پر جنگ بندی کو پامال کیا گیا، تو اسے پورے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری امریکہ اور صہیونی حکومت پر عائد ہوگی۔

لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایرانی حکام کا صہیونی حکومت اور امریکہ کو سخت انتباہ

لبنان کے خلاف جارحیت کا سلسلہ اب ناقابل برداشت ہوچکا ہے، جنرل شکارچی

ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے صیہونی حکومت کو جارح اور بچوں کی قاتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تل ابیب نے جنگ بندی کے ماحول کا ناجائز فائدہ اٹھایا، لبنان کی سرزمین پر جارحیت کی اور ہزاروں بے گناہ شہریوں کو خاک و خون میں نہلا دیا۔

انہوں نے ان حالات پر مغربی ممالک کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ مغربی حکومتوں نے یا تو خاموشی اختیار کر رکھی ہے یا وہ ان اقدامات کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جنرل شکارچی نے وارننگ دی کہ لبنانی عوام کے خلاف ان وحشیانہ جرائم کا جاری رہنا اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگا۔

لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایرانی حکام کا صہیونی حکومت اور امریکہ کو سخت انتباہ

جنگ بندی کی خلاف ورزی میں امریکہ بھی شریک ہے، قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی صیہونی حکومت کے حالیہ حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے امریکہ کو جنگ بندی کی خلاف ورزی میں برابر کا شریک قرار دیا۔

انہوں نے اسرائیل کی جانب سے لبنان کے سمندری محاصرے اور جنگی جرائم میں تیزی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ واشنگٹن جنگ بندی کے معاہدوں پر قائم نہیں ہے۔

اسپیکر پارلیمنٹ نے کہا کہ ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ آخر کار اس قیمت کو ادا کرنی پڑے گی۔

لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایرانی حکام کا صہیونی حکومت اور امریکہ کو سخت انتباہ

ایرانی عوام لبنانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، آیت اللہ لاریجانی

مجمع تشخیص مصلحتِ نظام کے سربراہ نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ حزب اللہ لبنانی عوام کی مزاحمت کی علامت ہے جو مشکل ترین میدانوں میں غیور ایرانی قوم کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی رہی اور اپنی وفاداری و قربانی سے تاریخ رقم کی۔ آج جب لبنان غاصب صیہونی حکومت کے بزدلانہ حملوں کی آگ میں جل رہا ہے، تو ایران کے غیور عوام بھی مزاحمتی محاذ میں لبنانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ اس قوم کا قرض ادا کر سکیں جس نے اپنی جان کی قیمت پر بھی ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔

لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایرانی حکام کا صہیونی حکومت اور امریکہ کو سخت انتباہ

لبنان میں جنگ بندی کسی بھی معاہدے کا لازمی حصہ ہے، بقائی

وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے صیہونی حکومت کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔

انہوں نے لبنان کی خودمختاری کی بار بار خلاف ورزی، شہریوں کے قتل اور بے گھری، اور اس پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی خاموشی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ان جرائم کے خلاف اپنا کردار ادا کرے۔

بقائی نے لبنان کی جنگ بندی اور خطے کے کسی بھی معاہدے کے آپسی تعلق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی، جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے کسی بھی معاہدے کا لازمی اور ناگزیر حصہ ہے۔

لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایرانی حکام کا صہیونی حکومت اور امریکہ کو سخت انتباہ

ترجمان وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کی نظر میں صرف صیہونی حکومت ہی جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کر رہی، بلکہ امریکہ بھی ان اقدامات کی حمایت اور ایران کے مفادات کے خلاف دشمنانہ رویے کی وجہ سے اس معاہدے کو توڑنے کا برابر کا ذمہ دار ہے۔

ایران کے اعلی فوجی، پارلیمانی اور سفارتی حکام کے بیانات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تہران کی ایک مشترکہ حکمتِ عملی سامنے آرہی ہے؛ ایک ایسی حکمت عملی جس کے مطابق لبنان جنگ بندی کے معاہدے اور علاقائی سلامتی کا بنیادی حصہ ہے، اور اس ملک پر کسی بھی قسم کی جارحیت کو خطے کی باقی صورتحال سے الگ نہیں دیکھا جاسکتا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *