ممکنہ ایران-امریکہ معاہدہ تہران کو مضبوط اور تل ابیب کو کمزور کرے گا، صہیونی اخبار

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار ہاآرتص نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس معاہدے پر ایران کے ساتھ دستخط کرنا چاہتے ہیں، وہ اسرائیل کو موجودہ صورتحال سے بھی زیادہ مشکل پوزیشن میں لا سکتا ہے۔

اسرائیلی اخبار نے دعوی کیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب اپنے جنگی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کا نظام بدستور قائم ہے، لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ اسرائیل پر دباؤ اور حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدہ ایران کی طاقت کی بحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتا ہے۔

ہاآرتص نے اپنی رپورٹ میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کی رفتار کو بھی سست قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مذاکراتی عمل اب بھی دھیمی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور خطے میں امن کے حوالے سے پیدا ہونے والی امیدیں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے حوالے سے پائی جانے والی توقعات دوبارہ ایک غیر حقیقی امید میں تبدیل ہونے کا خدشہ رکھتی ہیں۔

خبر کے مطابق ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے تمام محاذوں، بالخصوص لبنان میں جنگ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ایران کے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی استعمال کرنے کے حق کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان شرائط کو تسلیم کرنا ایران کے خلاف دباؤ پیدا کرنے والی امریکی پالیسیوں اور منصوبوں کے لیے ایک بڑی ناکامی تصور کیا جا رہا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *