
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم نے “ٹرمپ کی پسپائی کے بعد حزب اللہ سرحدوں کو تبدیل کر رہا ہے” کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی فوج دریائے لیتانی عبور کر چکی ہے، تاہم اس کے جواب میں حزب اللہ لبنان نے اپنے حملوں کا دائرہ کرمیئیل اور صفد کی جانب بڑھا دیا۔
اخبار کے مطابق جاری جھڑپوں اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک عارضی معاہدہ طے پا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع ہو جائے گی اور حزب اللہ کو اپنی صفوں کی ازسر نو تنظیم اور صلاحیتوں کی بحالی کا موقع مل سکتا ہے۔
رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ پراعتماد اور زیادہ مطالبات کرنے والا فریق دکھائی دیتا ہے، جبکہ تہران کے اعلی حکام کے حالیہ بیانات ان کے بلند اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسرائیل ہیوم نے مزید لکھا ہے کہ اگر جنگ بندی میں 60 روز کی توسیع کی جاتی ہے تو اس کا مطلب حزب اللہ کے حملہ آور ڈرونز اور میزائلوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو شمالی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے ایک تشویشناک صورتحال ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق شمالی علاقوں میں رہنے والے بہت سے شہری، خصوصا خاندان، نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں اور یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے افراد مستقبل میں واپس آئیں گے۔
اخبار نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس صورتحال کے باعث سیاحتی سیزن کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ زرعی شعبہ بھی متاثر ہوگا، جس کے نتیجے میں شمالی علاقوں کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
