
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی حکومت کے وزیرِ خزانہ بزلیل اسموتریچ نے اعتراف کیا ہے کہ لبنان کی مقاومتی تحریک حزب اللہ کے خلاف جاری جنگ کی قیمت اسرائیل کے لیے انتہائی بھاری ثابت ہورہی ہے، تاہم یہ جنگ اسرائیل کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسموتریچ نے اسرائیلی فوج کے اس دعوے کا حوالہ دیا کہ اس نے جنوبی لبنان کے علاقے الشقیف قلعہ کے اطراف پیش رفت حاصل کی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے چینل 12 نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج کئی ماہ تک اسی طرز پر لبنان میں کارروائیاں جاری رکھے تب بھی حزب اللہ کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
ادھر اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ شب حزب اللہ کے ایک ڈرون نے اسرائیلی فوج کی گفعاتی بریگیڈ کے متعدد اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ خاص طور پر تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ رات کے وقت انجام دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ تاریکی میں بھی اپنے خودکش ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی فوجیوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی حکام اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایسے اعترافات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لبنان کے محاذ پر جاری جنگ اسرائیل کے لیے فوجی، اقتصادی اور سکیورٹی اعتبار سے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
