بلوچستان میں باغیوں کے خلاف ’آپریشن کلین اپ‘، میجر سمیت پاکستانی فوج کے 5 جوانوں کی موت

غور طلب ہے پاکستان کا بلوچستان طویل عرصے سے کم شدت کی بغاوت اور تشدد کا سامنا کررہا ہے۔ یہاں باغی اکثر سیکورٹی فورسیز اور سرکاری ڈھانچے کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ بلوچوں کا ماننا ہے کہ بلوچستان کو 1947 کی تقسیم کے بعد ان کی مرضی کے خلاف پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔ وہ پاکستان حکومت اور خاص طور سے پنجاب علاقہ پر بلوچستان کے قدرتی گیس اور معدنیات جیسے وسائل کے مبینہ استحصال کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ گروپ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) اور گوادر پورٹ جیسے منصوبوں کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ بی ایل اے اسے وسائل کی لوٹ اور بلوچ خود مختاری کے لیے خطرہ مانتا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *