نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو مدھیہ پردیش حکومت کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ قبائلی امور کے وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دینے کے معاملے میں عدالت کے حکم پر اب تک عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ یہ معاملہ ہندوستانی فوج کی افسر کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف دیے گئے متنازع بیان سے جڑا ہوا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے سماعت کے دوران ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ دو ہفتوں کے اندر فیصلہ لینے کی ہدایت کے باوجود اب تک منظوری کے معاملے پر پیش رفت کیوں نہیں ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ اس تاخیر کی کوئی مناسب وجہ سامنے نہیں آئی۔
