جسٹس شیوگنانم کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار سے ٹریبونل کو اپنے سامنے زیر التوا کولکاتا کی سبھی اپیلوں کا نمٹارہ کرنے میں 4 سال لگ جائیں گے۔


i
کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ٹی ایس شیوگنانم نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر ’ایس آئی آر ٹریبونل‘ سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے 22 دنوں میں 1,777 اپیلوں کا نمٹارہ کیا اور کسی بھی اپیل کو مسترد نہیں کیا۔ جسٹس شیوگنانم کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار کے سے ٹریبونل کو کولکاتا کی تمام زیر التوا اپیلوں کے نمٹارے میں 4 سال لگ جائیں گے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سوجوئے پال کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کو بھی سونپ دیا۔
قابل ذکر ہے کہ ابتدا میں جسٹس شیوگنانم کو شمالی 24 پرگنہ اور کولکاتا کے درخواست گزاروں کے لیے ٹریبونل میں مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے مالدہ، مرشد آباد اور بیربھوم کے معاملوں کی بھی سماعت کی، کیونکہ سپریم کورٹ نے یہ مقدمات انہیں سونپے تھے۔ فرخہ سے کانگریس امیدوار محمد مہتاب شیخ پہلے ایسے شخص تھے، جن کا نام جسٹس شیوگنانم کی سربراہی والے ٹریبونل نے منظور کیا۔ شیخ کے ووٹ دینے کے حقوق بحال کر دیے گئے اور انہوں نے انتخاب جیت کر رکن اسمبلی کا عہدہ بھی حاصل کر لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس شیوگنانم جمعہ کو چنئی واپس روانہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے 5 اپریل سے 27 اپریل کے درمیان 1,777 اپیلوں کا نمٹارہ کیا۔ میں نے معروف مصور نند لال بوس کے پوتے سپربُدھ سین اور ان کی اہلیہ دیپا سین کی اپیلوں کی بھی سماعت کی اور ان کے ووٹ دینے کے حقوق بحال کیے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے ان اپیلوں پر کھلے ذہن سے غور کیا، پھر میں نے بعد میں کولکاتا جنوبی اور کولکاتا شمالی کی اپیلوں کی بھی جانچ کی۔
شیوگنانم کا کہنا ہے کہ انھوں نے روزانہ صبح 8:30 بجے سے شام 5 بجے تک کام کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ مقدمات نمٹائے جا سکیں، اور اتوار کو بھی بغیر کسی اسٹاف کے مقدمات کی سماعت کرتے تھے۔ شیوگنانم نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے ’مشنریز آف چیریٹی‘ کی راہباؤں کی اپیلیں بھی سنیں اور ان میں سے 30 یا اس سے زیادہ راہباؤں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی۔ اگرچہ راہباؤں کے سرٹیفکیٹ ان کی مذہبی کاوشوں سے پہلے کی زندگی کے سرٹیفکیٹ سے میل نہیں کھاتے تھے، پھر بھی میں نے کسی بھی اپیل کو مسترد نہیں کیا۔
جسٹس شیوگنانم کو محسوس ہوا کہ کولکاتا کے لیے سماعت کا پورا عمل مکمل کرنے میں ابھی 4 سال مزید لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب بھی ایک لاکھ اپیلیں زیر التوا ہیں۔ آن لائن اپیلوں میں کچھ مشکلات تھیں۔‘‘ جسٹس شیوگنانم نے بتایا کہ جج لمبے احکامات دینے کے عادی ہوتے ہیں، لیکن پورٹل پر الفاظ کی تعداد کی حد مقرر ہوتی ہے، اس لیے میں نے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے 4 سے 5 لائنوں میں احکامات دینا شروع کر دیے۔ دراصل میں ای کورٹ کی کارروائی کا عادی ہوں، لیکن تمام سابق جج ٹیکنالوجی سے واقف نہیں ہوتے۔ اگرچہ میں کوئی ٹیکنوکریٹ نہیں ہوں، پھر بھی میں لاگ اِن کرنے اور احکامات اپلوڈ کرنے کا طریقہ سمجھتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے پہلے سے اس کا تجربہ رہا ہے، لیکن دوسرے ریٹائرڈ ججوں کو شاید ایسا تجربہ نہ ہو۔
سابق جسٹس شیوگنانم کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے 19 ٹریبونلز کے لیے تکنیکی مدد بہت عمدہ تھی۔ حالانکہ نظام میں ایک خاص بٹن کی ضرورت ہے، تاکہ اپیل دائر کرنے والے درخواست گزاروں کو نوٹس بھیجا جا سکے۔
واضح رہے کہ جسٹس ٹی ایس شیوگنانم کی پیدائش 16 ستمبر کو ڈاکٹر ٹی ایس سبّیا اور نلنی سبّیا کے یہاں ہوئی تھی۔ انہوں نے چنئی کے لوئیولا کالج سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور مدراس لا کالج سے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے تمل ناڈو بار کونسل میں اپنا اندراج کرایا۔
جسٹس شیوگنانم کو 2000 میں ایڈیشنل سینٹرل گورنمنٹ اسٹینڈنگ کاؤنسل کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ 2003 میں انہیں ساؤدرن ریلوے کے وکیل کے طور پر بھی پینل میں شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ 2004 میں انہیں مرکزی حکومت کے لیے سینئر پینل وکیل مقرر کیا گیا۔ 2007 میں مدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جسٹس شیوگنانم کو رجسٹرار جنرل کی جانب سے پیش ہونے کے لیے پینل وکیل نامزد کیا تھا۔ جسٹس ٹی ایس شیوگنانم نے 11 مئی 2023 کو کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا تھا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

