
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران مخالف مسودہ قرارداد پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس خطے میں جاری بحران کے دیرپا حل کا واحد راستہ جنگ کا مستقل خاتمہ، بحری محاصرہ ختم کرنا اور معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی ہے۔
ایروانی نے اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور بحرین نے مشترکہ طور پر ایک ایسا مسودہ قرارداد پیش کیا ہے جو ناقص، یکطرفہ اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور بحرین یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ان کے اقدامات کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی کا تحفظ ہے، جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات بھی عائد کیے ہیں، حالانکہ زمینی حقائق ان کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔
ایروانی نے واضح کیا کہ امریکہ کے اقدامات اس کے اپنے دعوؤں کے بالکل برعکس ہیں اور ان کے نتیجے میں صرف کشیدگی میں اضافہ اور خطے میں عدم استحکام مزید گہرا ہوا ہے۔
ایرانی سفیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا موقف بالکل واضح ہے کہ آبنائے ہرمز میں پائیدار حل جنگ کے مستقل خاتمے، بحری محاصرہ اٹھانے اور آمدورفت کو معمول پر لانے میں ہے۔ امریکہ آزاد جہازرانی کے نام پر سلامتی کونسل میں ایک ایسا سیاسی اور ناقص مسودہ آگے بڑھا رہا ہے جس کا مقصد بحران حل کرنا نہیں بلکہ اپنے غیر قانونی اقدامات کو جائز ثابت کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مسودہ دراصل بین الاقوامی جہازرانی کی حمایت کے لیے نہیں بلکہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی کارروائیوں اور بحری محاصرے کو قانونی حیثیت دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ایروانی نے کہا کہ یہ مسودہ جان بوجھ کر منتخب اور مسخ شدہ بیانیہ پیش کرتا ہے، اسی لیے اس میں وہ غیر جانبداری موجود نہیں جو سلامتی کونسل کی کارروائی کے لیے ضروری ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ موجودہ بحران دراصل 28 فروری 2026 سے امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی غیر قانونی جنگ کا براہ راست نتیجہ ہے۔ یہ صورتحال ’عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ‘ ہے، کسی حقیقی اور معتبر بنیاد پر قائم نہیں۔ ایروانی کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ہفتم کا حوالہ دینا مکمل طور پر غیر ضروری، غیر مناسب اور سیاسی مقاصد سے جڑا ہوا ہے۔
ایروانی نے خبردار کیا کہ اگر یہ قرارداد منظور ہوگئی تو سلامتی کونسل کی ساکھ اور غیر جانبداری کو شدید نقصان پہنچے گا اور یہ ایک خطرناک مثال بن جائے گی جس کے ذریعے امریکہ کی یکطرفہ اور غیر قانونی کارروائیوں کو جائز ٹھہرایا جا سکے گا۔
ایروانی نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کو جارح قوتوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا چاہیے اور اسے غیر قانونی اقدامات کو جائز ثابت کرنے کا آلہ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے رکن ممالک کو خبردار کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کو مسخ کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف ہوشیار رہیں۔
ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ ایران مکمل طور پر تیار ہے کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کرے اور جہازرانی کی آزادی کی ضمانت دے، لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ جنگ مستقل طور پر ختم ہو اور غیر قانونی بحری محاصرہ اٹھایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق ہیں، ان قوانین میں خاص طور پر ممالک کو یہ حق دیا گیا ہے کہ اگر ان پر جارحیت ہو تو وہ اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
