
نئی دہلی ۔مغربی بنگال اسمبلی کی مدت کار ختم ہوتے ہی گورنر نے پوری کابینہ کو تحلیل کر دیا جس کے بعد ممتا بنرجی وزیر اعلیٰ کے عہدے پر نہیں رہیں۔
استعفیٰ کو لے کر جاری سیاسی رسہ کشی کے درمیان یہ پیش رفت براہ راست آئینی عمل کے تحت ہوئی جس کے ساتھ ہی بنگال میں تقریباً 15 برس پر محیط ممتا حکومت کا ایک دور اختتام کو پہنچ گیا۔کولکاتہ گزٹ میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق گورنر آر این روی نے مغربی بنگال اسمبلی کو تحلیل کر دیا ہے
اور یہ فیصلہ 7 مئی 2026 سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی اور ممتا بنرجی کی حکومت قانونی طور پر ختم ہو گئی۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ گورنر آر این روی نے ہندوستانی آئین کی دفعہ 174 کے کلاز (2) کے سب کلاز (بی) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کی۔
اس دستاویز پر بنگال کے چیف سکریٹری دشینت ناریالا کے دستخط بھی موجود ہیں۔اس فیصلے کے بعد 17ویں مغربی بنگال اسمبلی کی مدت مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے، جبکہ نو منتخب اراکین کے ساتھ 18ویں قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ممتا بنرجی نے اب تک اپنے وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔
بنگال اسمبلی انتخاب کے نتائج 4 مئی کو آئے تھے، جس میں بی جے پی کو 207 اور ٹی ایم سی کو 80 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 100 سیٹوں پر بے ایمانی سے ٹی ایم سی کو ہرایا گیا ہے۔
ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) میں تقریباً 31 لاکھ نام کٹے ہیں اور بی جے پی کو ٹی ایم سی سے 32 لاکھ سے زائد ووٹ ملے ہیں۔
